, Español امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
18 اکتوبر 2020
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
19 ستمبر کو ایران پر اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں فی الواقع بحال ہو گئیں جن میں ایران کے ساتھ اسلحے کی خریدوفروخت پر پابندی کا دوبارہ نفاذ بھی شامل ہے۔ لہٰذا ایران کو مخصوص روایتی اسلحے کی برآمد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد (یو این ایس سی آر) 1929 کی خلاف ورزی ہے اور ایران سے اسلحے سے متعلق کسی بھی طرح کا سازوسامان حاصل کرنا یواین ایس سی آر 1747 کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ ایران کے ساتھ روایتی ہتھیاروں کی فراہمی، فروخت یا متنقلی سے متعلق لین دین کی کسی بھی طرح کی مادی سرگرمی میں ملوث ہر فرد یا ادارے پر پابندی عائد کرنے کے لیے اپنے ملکی اختیارات استعمال کرنے کو تیار ہے۔ علاوہ ازیں یہ پابندی اس اسلحے سے متعلق ایران کو تکنیکی تربیت، مالی مدد اور خدمات سمیت دیگر معاونت فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف بھی عائد ہو گی۔
مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے خواہاں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کرنے والے ہر ملک کو ایران کے ساتھ اسلحے سے متعلق کسی بھی طرح کے لین دین سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ایران کو اسلحے کی فراہمی سے خطے میں تناؤ کی کیفیت مزید سنگین ہو جائے گی، دہشت گرد گروہوں اور ایران کے آلہ کاروں کے ہاتھوں میں مزید خطرناک ہتھیار آ جائیں گے اور اسرائیل و دیگر پُرامن ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو جائے گا۔ گزشتہ دس برس میں اقوام متحدہ کے متعدد اقدامات کے تحت ممالک نے ایران کو ہتھیار فروخت کرنے سے اجتناب کیا۔ اب جو بھی ملک اس ممانعت کو چیلنج کرے گا وہ واضح طور پر امن و سلامتی کے فروغ کے بجائے جنگ اور تناؤ کو ہوا دینے کا انتخاب کرے گا۔
ایران کو ہتھیار فروخت کرنے والا ہر ملک اس کی حکومت کو عوام کی دولت اپنے عسکری مقاصد پر خرچ کرنے میں مدد دے کر ایران کے لوگوں کو مفلس بنا رہا ہے۔ ایران کی حکومت کو ایک فیصلہ کرنا ہے: وہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہتھیاروں کی خرید جاری رکھ سکتی ہے یا اپنے مالی وسائل ایران کے عوام کی بہتری کے لیے خرچ کر سکتی ہے۔ آج ایران کے عوام تکالیف کا شکار ہیں کیونکہ ایرانی حکومت نے صحت کے شعبے کے حکام کی جانب سے ضروری مالی وسائل کی فراہمی کے مطالبے کے باوجود کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے وزارت صحت کے ایک ارب ڈالر روک رکھے ہیں۔ ایرانی عوام کے لیے مالی وسائل کے تعین سے جنم لینے والے نتائج کی ذمہ دار ایران کی حکومت ہے۔ ایران میں کئی دہائیوں سے حکمرانوں کی بدعنوانی اور بنیاد پرست پالیسیاں اس عظیم قوم کے تنزل کی ذمہ دار ہیں۔ ہم جبر، وسائل کی لوٹ مار اور ایرانی حکومت کی جانب سے لوگوں کی آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کی کوششوں کے خلاف ایران کے عوام کے ساتھ ہیں۔
امریکہ ایران کے ساتھ امن قائم کرنے کا خواہش مند ہے اور اسے امید ہے کہ ایک دن ایران کے رہنما اسی جانب آئیں گے۔ جب ایران کے حکمران اپنے انقلاب کو دوسرے ممالک میں پھیلانے کے خواب ترک کر دیں گے تو انہیں واشنگٹن کی صورت میں ایک فیاض شراکت دار دکھائی دے گا۔
